Home Who are NGIs NGIs in Pakistan Articles In Urdu Contact Us
 
Provide start-to-end solutions for our clients from initial website consultation to the implementation of effective e-marketing strategies. Through the unsurpassed quality and our commitment to the development of long-lasting business relationships, we have made it our mission to become the complete solution provider in website design, consultation, hosting, and promotionals for your company.

Dr. Anwar Nasim
..............................................

A Concept coined by            Dr. Anwar Nasim                 in Pakistan

Home

Who are NGIs

NGIs in Pakistan

Articles

In Urdu

Contact Us

Sky Web Works is a strong, reliable company that specializes in web site design, re-design, database programming, content management tools, print, multi-media, web maintenance to name a few.
Through the unsurpassed quality and our commitment to the development of long-lasting business relationships, we have made it our mission to become the complete solution provider in website design, consultation, hosting, and promotionals for your company.

غیر سرکاری افراد کا نیٹ ورک


ڈاکٹر انور نسیم                 چیئرمین …رابطہ کمیٹی
ڈاکٹر سلطان بشیر محمود    معاون چیئرمین …رابطہ کمیٹی
ڈاکٹر نعیم غنی                  کوآرڈی نیٹر …رابطہ کمیٹی
ڈاکٹر افتخار احمد              عوامی آگاہی/تربیت …رابطہ کمیٹی
ڈاکٹر حفیظ اللہ خان            میڈیا ایڈوائزر …رابطہ کمیٹی
جناب محمد صدیق تہامی     رکن …رابطہ کمیٹی
ڈاکٹر اکرام اعظم              رکن …رابطہ کمیٹی
ڈاکٹر خالد محمود              رکن …رابطہ کمیٹی

 


این جی آئیز نیٹ ورک کا قیام

 
ڈاکٹر انور نسیم کے ''غیر سرکاری افراد'' کے تصور کو عملی شکل دینے کے لیے اُن کی سربراہی میں ایک مرکزی گروپ 24مئی 2007ء کو تشکیل دیا گیا 'جس میں یہ متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ سلطانہ فاؤنڈیشن لہتراڑ روڈ فراش ٹاؤن اسلام آباد اس کا مرکزی پلیٹ فارم ہوگا۔
این جی آئیز نیٹ ورک کے قیام کے موقع پر ڈاکٹر انور نسیم نے کہا کہ کسی بھی معاشرے میں کام کی ذمہ داری مندرجہ ذیل عناصر میں منقسم ہوتی ہے؛
 حکومتی ادارے
 سماجی اور پیشہ ور جمعیتیںاور
 غیر سرکاری افراد
وطنِ عزیز میں سولہ کروڑ لوگ آباد ہیں۔ اس میں کم از کم ساڑھے پندرہ کروڑ ''غیر سرکاری افراد ''ہیں جو اپنی اپنی سطح پر اپنے اپنے کام بخوبی سر انجام دے رہے ہیں۔ ان میں لاکھوں ''غیر سرکاری افراد ''ایسے بھی ہیں جو مختلف میادین مثلاً علمی سائنسی ،سماجی ،عصری علوم میں ایسے منفرد کام کررہے ہیں جن سے اُن کی اپنی ذات کے علاوہ ہزاروں لاکھوں انسانوں کو فائدہ پہنچ رہا ہوگا۔ ان میں سے چند افراد کو ہم جانتے پہنچانتے ہیں جو مثال بن جاتے ہیں اور کچھ بے نام رہ جاتے ہیں اور دوسروں کے لیے مثال نہیں بن پاتے۔ معروف کام کرنے والے افراد جن کے کام کا فائدہ اپنی ذات سے بڑھ کر ہو معاشرے کو اُن کی حوصلہ افزائی اور قدر کرنی چاہیے۔ وطنِ عزیز میںبہت سارے لوگ جو مفادِ عامہ میں 'علمی میادین میں کام کررہے ہیں وہ آپس میں بھی ایک دوسرے کے کام و نام سے ناواقف ہیں۔ حالانکہ ممکن ہے کہ اُن کے باہمی تعاون سے دونوں اطراف اپنے اپنے کام میں مزید افزودگی اور بہتری پیدا کر سکیں۔حکومتی اداروں کے کام کی تشہیر تو ابلاغ کرتا ہے لیکن ساڑھے پندرہ کروڑ ''غیر سرکاری افراد ''میں لاکھوں ایسے افراد ہیں،جو معاشرے میں انتہائی اہم خدمات سرانجام دے رہے ہیں'اُن کو کوئی نہیں جانتا اور وہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو نہیں جانتے یا ایک دوسرے کے تجربہ سے استفادہ نہیں کر پاتے۔

 
ڈاکٹر انور نسیم کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص کام نہیں کرتا تو وہ صرف تماشائی ہے۔
سول سوسائٹی کی تعریف یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اچھے برے میں تمیز کر سکتا ہے وہ سول سوسائٹی کا حصہ ہے۔ اِس کے لیے یہ ضروری نہیں کہ آپ پہلے ایک تنظیم بنائیںپھر اُس کو رجسٹر کروائیں 'اُس کو ایک نام دیں اور پھر کام کرنا شروع کریں۔معاشرے میں ہر انسان فطرتاً منفردہے اور وہ انفرادی طور پر کچھ نہ کچھ کر سکتا ہے ۔ علامہ ڈاکٹر اقبال کا ایک شعر اس حقیقت کی صحیح ترجمانی کرتا ہے ؛


افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر            ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا


معاشرے میں ہر شخص کی اپنی شخصی آزادی بہت ضرور ی ہے ۔ اسی حوالہ سے ڈاکٹر انور نسیم نے چند سال پہلے ایک تصور دیا این جی آئیز (NGIs)یعنی Non-Governmental Individuals کا منفرد تصور دیا۔


ڈاکٹر انور نسیم نے کہا کہ حکومت اور اداروں کی بات تو ہر کوئی کرتا ہے لیکن افراد کی بات کوئی نہیں کرتا۔ اگر ہم معاشرے میں انفرادی سطح پر اپنا اپنا مرکزی کردار ادا نہ کر سکے تو پھر ہمارا شمار صرف تماشائیوں میں ہوگا۔

 
اُن کے مطابق راہنمائی اور نیکی کے درمیان کوئی فاصلہ، رکاوٹ یا پردہ نہیں ۔ ہر انسان سب سے پہلے خود اپنا راہنما ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ کیا کرنا ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہ کب کرنا ہے؟ کام شروع کریں گے تو کسی نتیجہ کی توقع کر سکتے ہیں۔


ڈاکٹر انور نسیم نے کہا کہ 'حقیقت میں معاشرے کا ہر فرد سول سوسائٹی کا اہم حصہ ہے اور وہ اس کا کردار (Actor)بھی ہے اور ذمہ دار (Director)بھی ہے'۔
پاکستانی معاشرت اس وقت سول سوسائٹی تقریباً مفعولی رویہ اپنائے ہوئے ہے اور تمام تر توقعات سرکاری یا سیاسی افراد یا اداروں سے کی جاتی ہیں ،جن کا کردار فی الحال قومی اور سماجی چیلنجز کو پورا نہیں کرپا رہا۔ہر فرد کا اپنی سطح پر کردار ہوتا ہے ۔ایک مثال دیتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ایک دفعہ اُن سے پوچھا گیا کہ وطن ِعزیز کو کیسے بہتر بنایا جا سکتاہے تو اُن کا جواب مختصر تھا کہ 'اگر کل سے ہر پاکستانی جب اپنی صبح شروع کرے 'تو اپنا کام ایمانداری سے کرنا شروع کردے تو یہ معاشرہ خوبصورت اور ملک خوشحال ہوتا جائے گا'۔


این جی آئیز کے تصور کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے ۔معاشرے کی ہر خرابی کے لیے حکومت ِوقت کو موردِ الزام ٹھہرانا اور اپنے ہر مسئلہ کے حل کے لیے حکومت پر تکیہ کرنا ایک غیر حقیقت پسندانہ سوچ ہے۔ اس کے بر عکس، زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہم اپنے اپنے سماج میں خودانحصاری لائیں۔ کسی بھی معاملہ میں ،حکومت صرف ایک خاص حد تک ہی مدد گار ہو سکتی ہے۔ ہر مہذب معاشرے میں غیر سرکاری تنظیمیں (این جی اوز )بھی ہوتی ہیں اور وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جنہیں ''غیر سرکاری افراد'' NGIsکہنا چاہیے۔ اس ضمن میں، ہمارے سامنے عبدالستار ایدھی سمیت ، دیگر متعدد شخصیات کی مثالیں موجود ہیں۔ ڈاکٹر انور نسیم نے غیر سرکاری افراد کی اصطلاح برسوں پہلے وضع کر دی تھی۔ این جی آئیز سے مراد ایسا کوئی بھی شخص (مرد یا عورت) ہے جس نے کسی خاص (اور مثبت) مقصد کے لیے اپنی زندگی وقف کردی ہو اور معاشرے کی بھلائی میں شخصی سطح پر کردار ادا کرنے کے لیے اپنی استعداد ِکار کا بہترین مظاہرہ کر رہا ہو۔ تاہم، کسی بھی معاشرے میں رہنے والوں کی ایسی بہت بڑی تعداد ہوتی ہے (جو لاکھوں تک پہنچ سکتی ہے) جو کہ جو اپنی اپنی انفرادی حیثیت میں واضح کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ایک جاپانی پروفیسر، ڈاکٹر کیہارا کے تأثرات کی مثال سبق آموز ہے۔ ایک موقع پر اُن سے پوچھا گیا''اگر آپ کے ملک کی پیداواری صلاحیت ، من حیث القوم آپ کی اصل استعدادِ کار سے کم ہوئی، تو آپ کیا کریں گے؟''۔


ڈاکٹر کیہارا نے جواب دیا کہ'' ہمارے ہاں کل چار کروڑ بالغ افراد ہیں اور اگر اُن میں سے ہر شخص (مرد اور عورت ) اپنی نیند میں صرف ایک گھنٹے کی کمی کر لے تو ہمیں چار کروڑ گھنٹے حاصل ہوں گے۔ اب یہ میں آپ پر چھوڑتا ہوں کہ روزانہ ملنے والے اضافی چار کروڑ گھنٹوں میں کیا کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔''تاریخ کے صفحات پر اس حقیقت کے واضح ثبوت موجود ہیں کہ افراد کے شخصی کردار ہی نے وہ راہیں متعین کی ہیں جن پربعد ازاں انسانی معاشروں نے کسی بھی لحاظ سے پیش رفت کی ہے۔

 
''100 عظیم آدمی'' نامی کتاب میں مصنف نے ایس سو افراد کی شخصیات اور خدمات یکجا کی ہیں جو موجودہ دنیا کی وجہ بننے والی اہم تبدیلیوں کے مؤجب تھے۔ ان شخصیات کو شعبۂ خدمات اور تعدادِ افراد کے اعتبار سے کچھ یوں تقسیم کیا جا سکتا ہے؛


شعبہ سائنسدان و مؤجدین 36
سیاسی و عسکری رہنما 31
سیکولر فلسفی 14
مذہبی رہنما 11
ادب و فنونِ لطیفہ کے مشاہیر 5
مہم جو/کھوجی 2
صنعتکار 1
مجموعہ 100


آج ہمارے پاس ایسے وسائل اور اختراعات موجود ہیں جن کی مدد سے ہم اپنے معاشرے کو درپیش مسائل کا تنقیدی نظر سے تجزیہ کر سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں، ان کے ذریعے ہم ان عملی طریقوں اور تدابیر کی نشاندہی کر کے، اُن پر عمل پیرا بھی ہو سکتے ہیں۔ خصوصاً پائیدار معاشی و معاشرتی ترقی کے حوالہ سے۔


ایک مثالی صورتِ حال کے تحت صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے تین کلیدی عناصر میں دو طرفہ اور تعمیری تعامل ہونا ضروری ہے، گویا کہ وہ ایک مثلث کے تین کنارے ہوں اور ان میں مثبت باہمی تعلق کے نتیجے میں صحت مند معاشرہ تشکیل پا رہا ہو۔ یہ تین عناصر بالترتیب یہ ہیں؛


(1)حکومت (2)غیر سرکاری تنظیمیں(این جی اوز) (3) غیر سرکاری افراد (این جی آئیز)۔


حکومت




این جی اوز                           این جی آئیز


مجھے یقین ہے کہ اگر ہم اپنے سماج کی معاشی و معاشرتی ترقی میں واقعی سنجیدہ ہیں تو ہمیں (معاشرے کی) بے غرض خدمت پر ایمان رکھنے والے اُن افراد کے کردار کو نمایاں طور پر مضبوط بنانا ہوگا جو خود کو اِس مقصد کے لیے وقف کر چکے ہیں۔ اگرچہ اس نکتہ کی وضاحت میں کئی شخصیات کو بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے لیکن اختصار کی غرض سے یہاں میں صرف چند اور چنیدہ افراد پر ہی اکتفا کروں گا۔
 

عبدالستار ایدھی 1928


عبدالستار ایدھی نے ذاتی نفع اور مفاد سے بالا تر ہو کر، اپنی ساری زندگی انسانیت کی خدمت میں گزاری ہے۔ ااپنی گزاری ہوئی زندگی پر بھی وہ اسی عاجزی اور انکساری سے نگاہ کرتے ہیں کہ جو کہ اُن کی شخصیت کا خاصہ بن چکی ہے۔ اُنہوں نے ایک معمولی خوانچہ فروش کی حیثیت سے کام کا آغاز کیا۔ اُن کی متاثر کن مثال ہمیںاپنی شخصیتوں میں انقلاب بپا کرنے کی ایک راہ دکھاتی ہے۔

 
قبل ازیں ''یونائیٹڈ نیشنز یونیورسٹی'' میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے اسی طرح کی ایک تقریر کے دوران میں اپنے تصور (این جی آئیز) کے لیے ''ہیرو'' کا لفظ استعمال کیا تھا۔ تب بھی میری مراد ایسے افراد و اشخاص ہی سے تھی جنہوں نے ترقی پذیر ممالک کی معاشی ترقی میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے کلیدی کرادار ادا کیا ہے۔ اگر ہم آنجہانی ڈاکٹر عبدالسلام، ڈاکٹر ارنسٹ نارمن بور لاگ ور ڈاکٹر سوامی ناتھن کی خدمات کا مختصر جائزہ ہی لے لیں تو میرا یہ نکتہ اور بھی واضح ہو جائے گا۔


پروفیسر عبدالسلام (1926 ..... 1996


پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام نے 1979ء میں طبیعات کا نوبل انعام حاصل کیا تھا۔ یعنی وہ پاکستان کے واحد نوبل انعام یافتہ سائنسدان بھی ہیں۔ وہ تریستے ''بین الاقوامی مرکز برائے نظری طبیعات'' (ICTP) کے بانی ڈائریکٹر بھی تھے اور اس عہدے پر 1964ء سے 1993ء تک فائز رہے۔

 
ڈاکٹر عبدالسلام کی شدید خواہش تھی کہ نظری طبیعات (Theoratical Physics) کے میدان سے مخصوص کوئی ایسی جگہ، کوئی ایسا مرکز ہونا چاہیے جہاں سائنسدان انتہائی بلند سطح تک کی تحقیق سر انجام دے سکیں۔ اپنی یہی خواہش انہوںنے آئی سی ٹی پی (ICTP)کی شکل میں صرف پوری ہی نہیں کی بلکہ اس مرکز کو انہوں نے دیگر اقوام کے لیے قابل تقلید مثال بھی بنادیا۔

 
ڈاکٹر عبدالسلام کی شخصیت بین الاقوامی سائنسی اور سیاسی حلقوں میں جانی پہچانی اور متاثر کن تھی۔ انہوں نے اقوام عالم میں سائنس کا پیغام پھیلانے کے لیے ساری دنیا کا سفر کیا۔ وہ جب بھی سربراہان مملکت اور ذمہ داران ریاست سے ملتے تو ہمیشہ انہیں مدلل انداز سے اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کرتے کہ' نہ صرف ان ممالک کی اپنی ترقی بلکہ بنی نو ع انسان کی اجتماعی بہتری کے لیے بھی انہیں اپنے ہاں سائنس کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے'۔

 
پروفیسر عبدالسلام وہ جس طرح سے ساری زندگی سائنس کے پر امن اطلاق اور (اس کے ذریعے) شمال جنوب کے مابین خلیج پاٹنے کی جستجو میں لگے رہے ، آج وہ ترقی پذیر ممالک میں ویسا ہی کام کرنے والے دیگر افراد کے لیے ایک مثال ہے۔ یہ ڈاکٹر عبدالسلام کی کاوشوں ہی کا ثمر ہے کہ آئی سی ٹی پی نہ صرف تریستے (اٹلی) میں بلکہ دیگر ممالک کی سائنسی برادری کے لیے بھی ایک مثالی ادارے کا مقام حاصل کر چکا ہے۔ جس کی تقلید کئی دوسرے اداروں میں بھی کی جارہی ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام کی زندگی ہی میں، جب آئی سی ٹی پی کو قائم ہوئے ابھی لگ بگ تیس سال ہو چکے تھے ، تو اس ادارے سے 150ممالک کے 60,000 سائنسدان استفادہ کر چکے تھے۔

 
دوسری مثال ایک امریکی زرعی سائنسدان ، بابائے سبز انقلاب اور ایک عظیم انسان دوست شخص، نارمن ارنسٹ بورلاگ کی ہے۔ بورلاگ 1914ء میں پیدا ہوا اور اس نے فاقہ زدگی سے بچاؤ کے لیے گراں قدر عالمی خدمات انجام دینے پر 1970ء میں نوبل انعام برائے امن پایا۔ جامعہ منیسوٹا سے نباتاتی امراضیات (پلانٹ پیتھالوجی) اور جینیات میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد وہ میکسیکو میں زرعی تحقیق کے ایک ادارے سے بطور محقق وابستہ ہوگئے۔ یہیں رہتے ہوئے انہوں نے گندم کی ایسی اقسام تیار کیں جو قدرے کم اُونچائی کی حامل ، زیادہ پیداوار دینے والی، اور بیماریوں کے مقابلے میں زیادہ مزاحمت پیدا کرنے کی اہل تھیں۔

 
بیسویں صدی کے وسطی برسوں میں بورلاگ نے پاکستان، میکسیکو اور ہندوستان میں اپنی فصلوں کے علاوہ زرعی پیداوار کی نئی تدابیر بھی متعارف کروائیں ۔ نتیجتاً میکسیکو 1963ء میں گندم برآمد کرنے والا ملک بن گیا۔ علاوہ ازیں پاکستان اور بھار ت میں بھی 1965ء سے 1970ء کے درمیان گندم کی پیداوار دوگنی ہوگئی ، جس کی بدولت ان دونوں ممالک میں غذائی تحفظ کی صورتحال بھی نمایاں طورپر بہتر ہو گئی۔ زرعی پیداور میں اضافوں کے اسی مجموعہ کو آج ''سبز انقلاب'' کہا جاتا ہے اور بورلاگ کو ایک ایسا نجات دہندہ بھی قرار دیا جاتا ہے جس نے ایک ارب سے زائد انسانوں کو فاقہ کشی سے بچایا ہے۔ قدرے حال ہی میں انہوں نے غذائی پیداوار میں اضافے کے ان کامیاب اور آزمودہ طریقوں کو دیگر ایشیائی ممالک کے علاوہ افریقہ میں بھی استعمال کیا ہے۔

 
ڈاکٹر ایس ایم سوامی ناتھن

 
این جی آئیز سائنسدانوں میں تیسری مثال ڈاکٹر ایس ایم سوامی ناتھن کی ہے، جو ہندوستان کی ''سوامی ناتھن ریسرچ فاؤنڈیشن '' کے بانی اور چیئرمین بھی ہیں۔ ٹائم میگزین نے ڈاکٹر سوامی ناتھن کو بیسویں صدی کے بیس با اثر ترین ایشائی باشندوں میں شمار کیا ہے۔ اس فہرست میں ان کے علاوہ صرف دو ہندوستانی اور ہیں۔ ٹائم میگزین کے الفاظ میں ڈاکٹر سوامی ناتھن ، وہ زندہ جاوید ہستی ہیں جنہیں تاریخ کے صفحات میں نایاب حد تک ممتاز مقام رکھنے والے سائنسدان کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

 
ڈاکٹرسوامی ناتھن نے بطور خاص تین شعبوں میں (ہندوستان کے لیے) انقلابی خدمات سر انجام دی ہیں: اول زراعت کے احیاء میں ؛ دوم اطلاعاتی و مواصلاتی فنیات (آئی سی ٹی) کے ذریعے دیہاتوں کی پائیدار ترقی کے لیے اور سوئم علم و ہنر کی مدد سے زراعت میں خواتین کو فنیاتی طور پر مضبوط بنانے میں۔


اگر ہم ایسے افراد کا کردار سامنے رکھیں اور ابتدا ء میں مذکورہ صحت مند معاشرہ کی تشکیل میں مثبت باہمی تعلق والی مثلت کو مضبوط کر لیں تو بجا طور پر یہ ااُمید کی جاسکتی ہے کہ آنے والا کل ، ہمارے آج اور گزرے ہوئے کل سے کہیں زیادہ بہتر ہوگا۔
پاکستان میں اِس وقت سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے ذہنوں کو بدلنا ہوگا اور اپنی ضروریات کو سمجھنا ہو گا اور پھر ان کے حل کے لیے بہترین لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا۔ الحمدا للہ ہمارے ملک میں تمام تر وسائل موجود ہیں۔ ہمیں سستی اور آرام طلبی کو چھوڑکر دن رات محنت کرنا ہوگی تاکہ غربت کا خاتمہ کیا جا سکے اور معاشی خوشحالی آئے۔

 
ڈاکٹر انور نسیم نے کہا کہ ''اگر ہر پاکستانیآج سے اپنا کام نیک نیتی اور ذمہ داری سے شروع کر دے تو ہم ایک انقلابی و خوشحال معاشرہ قائم کر سکتے ہیں۔ اس طرح اس مسئلہ کا حل ایک منٹ کی بجائے صرف بیس سیکنڈ میں مکن ہے'۔

 
سول سوسائٹی کی تعریف میں تمام افراد کو شامل ہونا چاہیے۔ ملک کی ترقی اور سول سوسائٹی کے قیام میں دو رکاوٹیں ہیں جن میںپہلی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں مثبت سوچ کے لوگ بہت کم ہیں جن کے لیے کوئی ایسا پلیٹ فارم نہیں جہاں وہ آپس میںمل کر کام کر سکیں۔ دوسری رکاوٹ یہ ہے کہ باصلاحیت افراد کی نیٹ ورکنگ (Networking)ہو جس میں انفرادی کوششیں شامل ہوں جو کہ ایک نیا پلیٹ فارم ہوگا۔


ڈاکٹر انور نسیم نے کہا کہ الحمد اللہ سلطانہ فاؤنڈیشن کا یہ پلیٹ فارم ہمیں نیٹ ورکنگ کی یہ سہولت فراہم کرتا ہے اور مجھے اُمید ہے کہ ہم یہاں اکٹھے ہو کر نئی SYNERGY قائم کر سکتے ہیں۔ میری تجویز ہے کہ اس پلیٹ فارم سے ہم نیٹ ورکنگ کا کوئی سسٹم بنالیں۔ جہاں ہم ایک دوسرے کے عمل کے ذمہ دار نہ ہوں بلکہ خوداحتسابی ہو ۔ ہم کوئی ویب سائیٹ بنالیں جس کا نام این جی آئیز نیٹ ورک ہو اوراس میں ایسے لوگ جو مثبت سوچ رکھتے ہوں ' ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو سکیں۔

 
ڈاکٹر انور نسیم کے مطابق 'جب تک انفرادی سطح پر مؤثر کام نہ ہو، تو ہم معاشرے میں بہتری پیدا نہیں ہو سکتی، کیونکہ جو کوئی کوشش کرتا ہے اُس کا نتیجہ ضرور پاتا ہے'۔
ڈاکٹر انور نسیم کا تصور ہے کہ غیر سرکاری افراد کا آپس میں رابطہ (Networking) معاشرے کی اُٹھان میں اہم عنصر بن سکتا ہے۔

 
این جی آئیز کا مقصد


این جی آئیز نیٹ ورک اُن مہم جو افراد کے مابین رابطہ قائم کرنے میں مدد کرے گا جو اپنے اپنے شعبہ میں رہتے ہوئے علمی یا سماجی میدان میں اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہیں تاکہ مثبت کاموں کی حوصلہ افزائی کی جا سکے اور معاشرے میں تعمیری کام کرنے والے افراد ' دوسروں کے لیے خاص کر نوجوانوں کے لیے مثال بن سکیں اور ایک جیسے کام کرنے والے احباب ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہو سکیں۔
این جی آئیز نیٹ ورک کا مقصد بھی ہو گا کہ معاشرے میں؛
''سوچنے والے ذہن اور حوصلہ افزائی کرنے والے قلوب'' پیدا ہوں۔
این جی آئیز اپنی اپنی جگہ اُن عوامل کی نشاندہی بھی کریں گے ' جو ہم سب کو اپنی اپنی انفرادی ذمہ داریاں نبھانے ، فعال ہونے کے لیے سہولتیں ار بنیادی تربیتیں حاصل کرنے میں اہتمام کے ضمن میں اساس بنتے ہیں۔

 
این جی آئیز کون ہیں؟


 ایسے افراد جو ایک جیسے اہداف پر انفرادی سطحوںپر کام کر رہے ہوں۔
ایسے غیر سیاسی افراد جو معاشرے میں فکری ہم آہنگی قائم کررہے ہوں۔
 ایسے مہم جو افراد جو سماجی، علمی، تحقیقی یا عمرانی علوم میں نمایاں کردار ادا کررہے ہوں۔
 ایسے افراد جنہوں نے اپنی انفرادی جدو جہد سے کچھ ایسے ادارے قائم کر لیے ہیں جو علمی تحقیق و اشاعت ، عملی سماجی بہبود وغیرہ میں باقاعدہ فعال ہوں۔
 نیٹ ورک سیاسی مباحثوں، دینی فروعات یا وقتی متنازعہ واقعات میں داخل نہیں ہو گا۔


این جی آئیزکی تشکیل کے موقع پر ڈاکٹر نعیم غنی کوآرڈی نیٹر رابطہ کمیٹی نے کہا کہ این جی آئیز پاکستان اور بیرون ملک میں بھی معاشرے کو درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے باصلاحیت اافراد سے رابطہ قائم رکھے گی۔ انہوں نے تیزی سے بدلتے اور پھیلتے ہوئے انسانی علم اور ٹیکنالوجی پر مبنی چیلنجز اور دیگر معاشروں میں انسانی صلاحیات کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے جو کہ عام سطح سے لے کر گلوبل سطح تک موجود ہیں 'معاشروں میں امن وآشتی کی بجائے ہیجان پیدا کر رہے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ انسانی ترقی کے لیے ہم سب کواپنے مقام پر رہتے ہوئے اپنا مرکزی کردار ادا کرنا ہوگا۔معاشرے میں انقلاب لانے اور افرادی قوت کو مزید بڑھانے کے لیے ہمیں مالی ،ذہنی اور روحانی سطحوں پر رسائی حاصل کرنا ہوگی۔
ان کے مطابق مختلف معاشروں میں محدود اور کم سوچ ،کمزور اور تنگ نظری کی وجہ سے تمام انسان بکھر گئے ہیں۔


ڈاکٹر نعیم غنی نے کہا کہ انسان ایک مضبوط چٹان کی مانند ہے جو اندر سے بہت مضبوط ہے اور جس میں بے شمار خداداد صلاحیتیں موجود ہیں ۔ایسی ترقی جو صرف ایک سمت میں ہو اس سے معاشرے میں کمزوری اور رکاوٹ پید اہوتی ہے جس کی وجہ سے صرف ایک غیر قیام پذیر معاشرہ قائم ہوتا ہے اور غیرقیام پذیر انسان پیداہوتے ہیں۔

 
ایک معاشرہ اور اس کے افراد اپنی زندگی کے مقاصدا ،اقدار جن پر وہ یقین رکھتے ہیں اور اپنی عقلی سمجھ بوجھ کے مطابق اپنی زندگیوں کو خوشحال بناتے ہیں اور گذارتے ہیں۔ درست سمجھ بوجھ ایک انسان کے مشن اور مقصد کی مزید نشوونما کرتی ہے۔
ذہنی شفافیت انسانی صلاحیات اور قدرتی طاقتوں کو بیک وقت سمجھنے سے حاصل کی جاسکتی ہے۔


ایسا راستہ جو یہ شفافیت پیدا کرتا ہے وہ صرف ذہنی سر گرمی میں حصہ لینے اور اپنے دانشور ساتھیوں کے ساتھ شمولیت اور تحقیق سے ملتا ہے۔

 
اس شفافیت کو سمجھنے میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ہمیں ہر چیز کی تعریف کو سمجھنا ہوگاجو کہ ہم کسی چیز کو سمجھانے کے لیے لفظوں کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ تعریفیں تخلیاتی، ثقافتی، معاشی اور سیاسی بھی ہو سکتی ہیں اور جن کی بنیاد پر ہم اپنی زندگیاں سنوارتے ہیں اور انسانی تعلقات بھی قائم کرتے ہیں۔بغیر ذہنی شفافیت کے انسان ایک غیر محفوظ حالت اور غیر قیام پذیر حالت اختیار کرلیتا ہے جبکہ ذہنی شفافیت کی بنیاد پر مادی(جسمانی)، ذہنی (عقلانی) اور روحانی (دلی) سطحوں پر چلا جاتا ہے جو کہ اس کی بقاء کے لیے ضروری ہیں۔


انسانی جسم جنیاتی جبلتوں اور قدرتی ذرائعوں کے استعمال سے اپنی دیکھ بھال کرتا ہے۔ ذہن سوچ ، ذہنی سرگرمی اور درست عملی کاموں سے شفاف اور وسیع ہوتا ہے ۔دل جو کہ زندگی کا حتمی فیصلہ کرتا ہے اس کی نشوونما اعتماداور اپنے خالق کے سامنے جھکنے اور تمام انسانوں سے محبت کرنے ، انسانوں میں اتحاد پیدا کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔

 
این جی آئیز کا مقصد ہے ؛''سوچنے والے ذہن اور حوصلہ افزائی کرنے والے قلوب ''پید ا کرنا۔ ہماری یہ کوشش ضروری عوامل کے لیے ان علامتی تعریفوں کو سمجھنے کے لیے جاری رہے گی جو کہ انسانی زندگی کے سفر کو بنانے اور اس کے لیے مؤثر ہوگی۔ این جی آئیز ان تمام چیزوں کی شناخت کرنے اور تمام رکاوٹوں کو روکنے کی سعی کرے گی جو ہماری زندگی کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے ہماری زندگی اور عمل کو متوازن رکھے۔

 
انہوں نے کہا کہ ایک اور اصطلاح میں ہم اس کو تخلیاتی اور معاشرتی معاملہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ معاشرتی معاملات عملی زندگی پر مبنی ہوتی ہیں جن کا انحصارTime and Spaceپر ہوتا ہے جو کہ ایک فرد یا ایک گروپ سے متعلقہ ہو سکتے ہیں۔ یہ معاملات سیاسی ساخت، معاشی ضروریات، ثقافتی ارتقائ، علم اور اس کا اطلاق، اپنے ہم نصب افراد کے ساتھ مقابلہ یا تعاون یا دوسری کمیونٹی کے افراد کے ساتھ تاکہ خود کو اور اپنے زندگی کے مقصد کو محفوظ کر سکیں۔ تخلیاتی میدان ہمیشہ کسی کی زندگی میں اس کے بڑھوتری کے لیے بنیادی عنصر کی حیثیت رکھتا ہے۔


''ہم معاشرے میں کچھ بھی نہیں بدل سکتے جب تک ہم خود کو اپنے اندرسے نہیں تبدیل .کرتے'' این جی آئیز کا مقصد شفاف ذہنیت اور افرادی سطح پر اپنے حصہ کا کام نہایت ذمہ داری سے کرنا ہے جو کہ آنے والی نسل کے لیے کارآمد ہو اور معاشرے کی بہتری اوربھلائی کا سبب بنے۔ اس کا مقصد جہالت کے بادلوں کو صاف کرنا ہے تاکہ روشنی پھیلائی جائے اور ستاروں کو حاصل کیا جائے تاکہ انسان کا یہ سفر انسانی خوشحالی کے لیے جاری و ساری رہے اور اس سے انسان کو صرف خود اپنے اندر نہیں بلکہ باہر بھی امن وسکون ملے۔